تازہ ترین

قانون سازی پر نظر ثانی کے لیے اسپیکر سے اپیل کرتا ہوں، شہباز شریف

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں جو قانون سازی ہوئی وہ آئین کے خلاف ہے۔قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت شروع ہوا اور اجلاس کے آغاز پر مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے ایوان میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں عوام نے منتخب کر کے بھیجا ہے لیکن ہماری بدقسمتی گزشتہ 5 دن سے ایوان میں جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ قومی اسمبلی اجلاس کے لیے کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے حالیہ دنوں جو قانون سازی ہوئی وہ آئین کے خلاف ہے۔ قانون سازی پر نظر ثانی کے لیے اسپیکر سے اپیل کرتا ہوں۔

شہباز شریف نے کہا کہ وزیر اعظم ایوان میں موجود نہیں مجھے امید ہے کہ وزیر اعظم تک میری باتیں پہنچ جائیں گی۔ ملک میں تین سالوں میں جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ کہاں ہیں 50 لاکھ نوکریاں اور کہاں ہیں 50 لاکھ گھر ؟

انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ عوام دوست نہیں بلکہ عوام دشمن ہے اور عوام کی جیب خالی ہے تو بجٹ جعلی ہے۔ عوام نے ہم سے امید لگا کر منتخب کر کے ایوان میں بھیجا ہے اور اپوزیشن کا فیصلہ تھا کہ دونوں طرف کی تقاریر کو سنیں گے لیکن بدقسمتی سے اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی۔

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ن لیگ نے حکومت چھوڑی تو جی ڈی پی 5.8 فیصد تھی لیکن آج 3 سال میں 2 کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے آ گئے۔ ریاست مدینہ میں کوئی رات کو بھوکا نہیں سوتا تھا لیکن یہاں تو مہنگائی کی شرح آسمان کو چھو رہی ہے۔ بجٹ سے متعلق لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کہ اس بجٹ میں ایک کروڑ نوکریاں کہاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج صوبوں اور وفاق میں اتفاق نہیں ہے جبکہ تین سال میں وفاق اور صوبوں میں تلخیاں بڑھیں، تین سال ہو گئے نواز شریف کے دور کے منصوبوں پر ہی فیتے کاٹے جا رہے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ ہم پر قرضوں، برآمدات اور درآمدات کے حوالے سے الزامات لگائے جاتے تھے لیکن آج حکومت کیا کر رہی ہے ؟ کارکردگی، معیشت، برآمدات اور درآمدات سب کے سامنے ہیں۔ حکومت نے مہنگائی کی طوفان میں ملک کو برباد کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ جتنی دوریاں اور تلخیاں صوبوں کے درمیان آج پیدا ہوئی ہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ اکائیاں مل کر چلتی ہیں صرف پنجاب کی ترقی سے پاکستان آگے نہیں بڑھے گا۔


subscribe YT Channel


Source

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ADVERTISEMENT
Back to top button