ورلڈ

اسرائیل کی محفوظ ترین جیل سے سرنگ کھود کر 6 فلسطینی قیدی فرار

[ad_1]

اسرائیل کی محفوظ ترین اور بہترین سیکیورٹی کی حامل جیل سے 6 فلسطینی قیدی سرنگ کھود کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جس کے بعد ان کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اسرائیل کی جیل سروس کے حکام نے کہا کہ مقامی لوگوں کی جانب سے تقریباً رات 3 بجے الارم بجائے گئے جنہوں نے ملک کے شمال میں واقع گلبوہ جیل کے باہر مشکوک افراد کو دیکھا تھا۔

جیل سروس نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ فرار افراد کے گروپ میں زکریا زبیدی بھی شامل ہیں جو اقصیٰ شہدا بریگیڈ کے ممتاز سابق رہنما ہیں اور مرحوم فلسطینی رہنما اور سابق صدر یاسر عرفات کی فتح سیاسی تحریک کا حصہ تھے۔

جیل عہدیداروں نے بتایا کہ پولیس، فوج اور اسرائیل کی طاقتور داخلی سیکیورٹی ایجنسی شن بیٹ کے ایجنٹس نے سراغ رساں کتوں کی مدد سے ان فرار قیدیوں کی تلاش کا کام شروع کردیا ہے اور گلبوہ کے آس پاس کے علاقے میں چوکیاں قائم کر دی گئی ہیں۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ یہ ممکن ہے کہ فرار ہونے والے پہلے ہی مغربی کنارے میں واپس آ گئے ہوں، یہ علاقہ 1967 سے اسرائیل کے قبضے میں ہے۔

فوج نے کہا کہ وہ مغربی کنارے میں آپریشن کے لیے تیار اور تعینات ہیں۔

جیل سے ان افراد کے فرار ہونے کی فوٹیج 1994 کی مشہور فلم ‘شاشنک ریڈیمپشن’ کی ہوبہو نقل محسوس ہوتی ہے جس میں ایک قیدی کے جیل سے فرار کی کہانی کھائی گئی تھی۔

اسرائیل کی جیل سروس کی جانب سے جاری ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے زیر زمین سرنگ کا معائنہ کر رہے ہیں جس کے ذریعے سے یہ قیدی فرار ہوئے۔

جیل سے یہ لوگ ایک ایسے موقع پر فرار ہوئے ہیں جب اسرائیل میں نئے یہودی سال کے آغاز کے ساتھ ہی چھٹیوں کا سیزن شروع ہوا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے ایک بیان میں قیدیوں کے فرار ہونے کو سنگین واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں فرار قیدیوں کی تلاش کے حوالے سے باقاعدہ اپ ڈیٹس مل رہی ہیں۔

اسرائیل کی جیل سروس کے مطابق گیلبوہ میں سیکیورٹی جرائم کے تحت حراست میں لیے گئے تمام 400 قیدیوں کو دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا ہے۔

حماس نے فرار کے اس عمل کو بہادرانہ عمل اور اسرائیل کے سیکیورٹی سسٹم کی حقیقی شکست قرار دیا ہے۔

غزہ کے ایک اور گروپ اسلامک جہاد نے جیل توڑنے کو قابض افواج کے لیے ایک زبردست دھچکا قرار دیا۔

زکریا زبیدی کون ہیں؟

زکریا زبیدی اقصیٰ شہدا بریگیڈ کے سابق سربراہ اور فلسطینیوں اور اسرائیلیوں میں یکساں مقبول شخصیت تھے۔

انہیں 2019 میں رام اللہ کے قریب ایک مغربی کنارے کے گاؤں سے دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

انہیں ماضی میں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے 2002 میں جنین کے گورنر قدوارہ موسیٰ کی رہائش گاہ پر فائرنگ اور حملے کے الزامات کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔

قدوارہ موسیٰ اس واقعے کے دوران دل کا دورہ پڑنے کے بعد دم توڑ گئے تھے اور فلسطینی سیکیورٹی فورسز نے زبیدی سمیت درجنوں افراد کو کچھ دیر بعد گرفتار کر لیا تھا۔

زکریا زبیدی نے 2007 میں ہتھیار ڈالنے پر رضامندی ظاہر کی اور جینین کا فریڈم تھیٹر تلاش کرنے میں مدد کی۔

2011 میں فریڈم تھیٹر کے معروف اسرائیلی فلسطینی ڈائریکٹر جولیانو میر خامیس کو جینین کے پناہ گزین کیمپ میں کیے گئے ایک حملے میں گولی مار ہلاک کردیا گیا تھا۔


subscribe YT Channel

[ad_2]

Source

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ADVERTISEMENT
Back to top button